اسلام آباد / ریاض: سعودی عرب نے حج کے لیے کم عمر عازمین پر عائد کی گئی 15 سال کی پابندی کو محض چند گھنٹوں بعد ہی واپس لے کر پالیسی میں بڑی تبدیلی کر دی ہے، جس کے بعد 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو دوبارہ حج کی اجازت دے دی گئی ہے۔
پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی (پی اے اے) کے ترجمان کے مطابق سعودی حکام نے سابقہ پالیسی بحال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب 12 سال یا اس سے زائد عمر کے عازمین حج کے لیے اہل ہوں گے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف عمر کی نئی شرط ختم کر دی گئی ہے بلکہ وہ ویزے بھی دوبارہ پراسیس کیے جائیں گے جو 15 سال سے کم عمر کی پابندی کے باعث مسترد کر دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی پی اے اے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 3 مئی 2026 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کو حج پروازوں میں سفر کی اجازت نہیں ہوگی اور ان کے جاری شدہ ویزے بھی منسوخ تصور کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد عازمین اور ٹریول آپریٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، کیونکہ ہزاروں خاندان اپنے بچوں کے ہمراہ حج کی تیاریوں میں مصروف تھے۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے فوری پالیسی تبدیلی نے صورتحال یکسر بدل دی اور کم عمر عازمین کیلئے ایک بڑی سہولت فراہم کر دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک فیصلے سے نہ صرف عازمین حج کو فوری ریلیف ملا ہے بلکہ حج آپریشن میں شامل ایئرلائنز، ٹور آپریٹرز اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی منصوبہ بندی میں آسانی حاصل ہوگی۔ خاص طور پر وہ خاندان جن کے بچوں کے ویزے منسوخ ہو چکے تھے، اب دوبارہ حج کی تیاری جاری رکھ سکیں گے۔
پی اے اے کے مطابق اب ایئرلائنز اور حج آپریٹرز کو نئی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں تاکہ 12 سال یا زائد عمر کے بچوں کی بکنگ، ویزا پراسیسنگ اور سفری انتظامات بلا تاخیر مکمل کیے جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حج جیسے بڑے عالمی مذہبی اجتماع کے لیے پالیسی میں اس نوعیت کی فوری تبدیلیاں انتظامی چیلنجز پیدا کرتی ہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے بروقت نظرثانی نے ممکنہ مشکلات کو کم کر دیا ہے۔سعودی عرب کے اس فیصلے کو عازمین حج کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں پاکستانی اور دیگر ممالک کے زائرین اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔
