ریاض: سعودی عرب نے حج سیزن کے دوران عازمین حج کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جدید اقدام کرتے ہوئے ادویات اور خون کے نمونوں کی ترسیل کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے بتایا کہ روایتی گاڑیوں کے ذریعے طبی سازوسامان اور سیمپلز کی ترسیل میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے لگ جاتے تھے، تاہم اب ڈرون کے ذریعے یہ وقت صرف پانچ سے دس منٹ تک محدود ہو جائے گا، جس سے عازمین کو فوری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔
وزیر صحت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت کی جانب سے جاری کردہ خصوصی ہدایات کا مقصد نہ صرف عازمین کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ ممکنہ انفیکشنز کے پھیلاؤ کو روکنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے بعض ویکسین لازمی ہیں، جبکہ تمام عازمین کے لیے گردن توڑ بخار (Meningococcal) کی ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فہد الجلاجل نے مزید کہا کہ یہ اقدامات حج کے دوران صحت و سلامتی کے عالمی معیار کو برقرار رکھنے اور ہنگامی طبی امداد کی ترسیل میں تیزرفتاری کے لیے نہایت اہم ہیں۔
سعودی وزارت صحت کے اس جدید اقدام سے نہ صرف عازمین کو فوری طبی مدد فراہم کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ انسانی وسائل پر دباؤ بھی کم ہوگا اور حج کے دوران ممکنہ طبی ایمرجنسیز کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بڑھے گی۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون ٹیکنالوجی مستقبل میں دیگر اہم مقامات پر بھی طبی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جس سے صحت کے شعبے میں جدید ترین اقدامات کو فروغ ملے گا۔
