ملتان (کورٹ رپورٹر)لاہورہائی کورٹ ملتان بنچ نےملتان کی مقامی حج و عمرہ کمپنی ایم/ایس فاطمہ انٹرنیشنل حج اینڈعمرہ سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کمپنی اُمور میں مبینہ بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی بدانتظامی کے معاملے پرمدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔یہ حکم جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کمپنی کے ڈائریکٹرز کیجانب سےدائر کمپنی پٹیشن پر جاری کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمپنی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو سلیمان سرگانہ کمپنی میں صرف 3 فیصد شیئرز کا مالک ہے جبکہ 97 فیصد ملکیت دیگر ڈائریکٹرز کے پاس ہے۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل پرانے تعلقات اور اعتماد کی بنیاد پر اسے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دیا گیا، مگر عہدہ سنبھالنے کے بعد اس نے مسلسل کمپنی کے مالی معاملات کے بارے میں ڈائریکٹرز کو حساب کتاب فراہم نہیں کیا اور مبینہ طور پر بدعنوانی، فراڈ اور بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
درخواست گزار ڈائریکٹرز اشعر اقبال ملک اور اعجاز احمد سرگانہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ چیف ایگزیکٹو نے کئی سالوں تک حاجیوں سے پیکج سے زائد رقوم وصول کیں، جبکہ کمپنی کے اکاؤنٹس میں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ظاہر کیے گئے۔ مزید کہا گیا کہ کمپنی کے اکاؤنٹس، رسیدیں اور اخراجات کے بل دفتر سے غائب کر دیے گئے ہیں جبکہ وزارتِ مذہبی امور اور حج پالیسی کے برخلاف اقدامات بھی کیے گئے۔
درخواست گزاروں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ کمپنی کے تمام بینک اکاؤنٹس اور مالی ریکارڈ کا آزاد آڈیٹ کرایا جائے، گزشتہ سال کا مکمل مالی آڈٹ آرڈر کیا جائے، اور سال 2026 کے حج کے لیے کمپنی کو ملنے والا حج کوٹہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے، کیونکہ اس وقت حج 2026 کے لیے حاجیوں سے وصول کی گئی رقوم بھی کمپنی کے اکاؤنٹس میں موجود نہیں ہیں۔
عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ کمپنی کے امور عارضی طور پر وزارتِ حج و مذہبی امور کے کسی سینئر افسر کو تفویض کیے جائیں، اور مبینہ طور پر ہڑپ کی گئی کروڑوں روپے کی رقوم واپس دلوا کر قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 6(3) کے تحت مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جواب جمع کرایا جائے۔کیس کی مزید سماعت 18 فروری 2026ء تک ملتوی کر دی گئی۔
عدالت نے دائر متفرق درخواست نمبر 1/2025 میں مانگی گئی رعایت کو قانونی اعتراضات کے ساتھ منظور کر لیا، جبکہ ایک اور متفرق درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا گیا۔درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
