سعودی عرب نے ایک اور خواب حقیقت میں بدل دیا،الحرمین ایکسپریس اب روزانہ 140 مرتبہ سفر کر رہی ہے، اور 20 لاکھ سے زائد حجاج کرام کو انتہائی آرام دہ، محفوظ اور ماحول دوست سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔
یہ نہ صرف سفری سہولت ہے، بلکہ سعودی وژن 2030 کی روشن تعبیر ہے جو جدید ٹیکنالوجی، ماحولیات سے ہم آہنگی اور مقدس مقامات تک آسان رسائی کا امت مسلمہ کو تحفہ ہے۔
453 کلومیٹر طویل اس برقی ٹرین نے مکہ، مدینہ، جدہ، شاہ عبداللہ اکنامک سٹی اور کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ کو ایک تیز رفتار نیٹ ورک میں جوڑ دیا ہے۔ صرف 25 منٹ میں ایک نئی ٹرین مکہ اسٹیشن پر پہنچتی ہے، رش کے دوران بھی روانی کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
یہ نظام نہ صرف ٹرانسپورٹ کی انقلابی شکل ہے بلکہ جدہ میں واقع دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈے سے منسلک ریلوے اسٹیشن بھی ہے، جہاں حجاج کرام بغیر ہوائی اڈہ چھوڑے ٹرین کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ،نہ ٹیکسی، نہ لمبی لائن، صرف سکون، سہولت اور رفتار ہے۔
ہر ٹرین میں نہ صرف عام مسافروں بلکہ معذور افراد کے لیے بھی مکمل سہولیات دی گئی ہیں۔ وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کے لیے مخصوص نشستیں موجود ہیں، تاکہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔
یہ نظام مکمل طور پر برقی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی دھواں، شور یا آلودگی نہیں۔ یہ سعودی عرب کے پائیدار ترقی کے وژن کا واضح پیغام ہےکہ عبادت کے سفر میں سہولت بھی ہو، ماحول کی حفاظت بھی۔حرمین ایکسپریس صرف ایک ٹرین نہیں، بلکہ جدیدیت، عبادت، سہولت اور وژن کا امتزاج ہے۔
