اسلام آباد:حج 2025 کے دوران پرائیویٹ حج اسکیم میں شامل 67 ہزار پاکستانی عازمین جنہیں مختلف وجوہات کی بنا پر حج سے محروم رکھا گیا تھا، اب انہیں مکمل رقم کی واپسی کا موقع ملے گا۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز نے وزیر مذہبی امور کو ایک خط لکھا ہے جس میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ان متاثرہ عازمین کو ان کی جمع کرائی گئی رقم واپس کریں گے، اور اس میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ عازمین کو رقم واپس حاصل کرنے کے لیے صرف ایک تحریری درخواست دینی ہوگی۔ درخواست کی وصولی کے بعد، 3 دن کے اندر تصدیقی خط جاری کیا جائے گا اور رقم کی واپسی کا عمل 7 سے 10 دن کے اندر مکمل کر دیا جائے گا۔ اس طریقہ کار سے عازمین کو رقم واپس کرنے کے عمل میں تیزی آئے گی اور انہیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا۔
پرائیویٹ حج آپریٹرز نے اپنے خط میں یہ بھی وضاحت دی ہے کہ اس فنڈز کی منسوخی کی وجہ سے حج کی تیاریوں میں تاخیر اور رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف عازمین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی روحانی سفر کی تیاریوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان آپریٹرز نے حکومت سے فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ حج کے عمل میں مزید رکاوٹیں نہ آئیں۔
حکومت اور پرائیویٹ حج آپریٹرز کے درمیان اس معاملے کے حل کے بعد، عازمین کو ان کی رقم واپس کرنے کا عمل شفاف اور مکمل طور پر واعدہ کیا گیا ہے۔ متاثرہ عازمین اس بات سے خوش ہیں کہ انہیں اپنا پیسہ واپس ملے گا اور وہ اپنے سفر کی تیاری دوبارہ کر سکیں گے۔
حج 2025 کے دوران پرائیویٹ اسکیم میں شامل 67 ہزار عازمین جنہیں حج سے محروم کر دیا گیا تھا، اب انہیں مکمل رقم کی واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز نے وزارت مذہبی امور کو ایک خط لکھا ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ 7 سے 10 دن میں رقم کی واپسی مکمل کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، آپریٹرز نے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ حج کی تیاریوں میں مزید رکاوٹیں نہ آئیں۔
