اسلام آباد: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کی رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ وزارت کے ذرائع کے مطابق اب تک 21 ہزار عازمین حج کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں اور اس موقع پر گزشتہ سال حج سے محروم رہ جانے والے عازمین کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ اس توسیع کا مقصد سیلاب کی وجہ سے متاثر ہونے والے عازمین کو حج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ نجی آپریٹرز کو بھی نئے درخواستیں وصول کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
وزارت مذہبی امور کے ذرائع نے بتایا ہے کہ 21 ہزار عازمین نے اب تک حج کے لیے رجسٹریشن کروا لی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک بڑی تعداد ہے۔ سیلاب کے باوجود اس رجسٹریشن میں بڑی تعداد میں عازمین کا شامل ہونا اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی عوام کا حج کی عبادت سے محبت اور اس کی اہمیت جوں کی توں ہے۔ یہ رجسٹریشن پورٹل کے ذریعے آن لائن کیا جا رہا ہے جس سے عازمین کو سہولت اور آسانی فراہم کی گئی ہے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق نجی حج آپریٹرز اب گزشتہ سال کے عازمین کو بغیر اضافی رقم کے حج پر لے جانے کے پابند ہوں گے۔ جو عازمین گزشتہ سال درخواست دے چکے ہیں اور سیلاب کی وجہ سے حج نہیں جا سکے، ان کو ایک سال پرانی رقم پر حج کرانے کا موقع ملے گا۔ یہ فیصلہ عازمین کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ سیلاب کی تباہی کے بعد ان کے لیے حج کے اخراجات میں اضافے کا امکان نہ ہو۔
ایک اور اہم فیصلے کے تحت جو عازمین گزشتہ سال جمع کرائی گئی رقم واپس لینے کا فیصلہ کریں گے، ان کے لیے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ وہ 2023 کے حج پیکج کے تحت حج پر نہیں جا سکیں گے۔ وزارت نے اس فیصلے کو واضح طور پر بیان کیا ہے تاکہ عازمین کو مالی پہلو سے متعلق کسی بھی ابہام کا سامنا نہ ہو۔
سیلاب کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں عازمین حج کے لیے مشکلات پیدا ہو چکی تھیں، تاہم وزارت مذہبی امور نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے سیلاب کے متاثرین کو اپنے حج کے ارمانوں کو پورا کرنے کا نیا موقع ملے گا۔ وزارت نے عازمین کی سہولت کے لیے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل آسان بنا دیا ہے۔
