وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری اسکیم کے تحت حج کی بکنگ مکمل ہو چکی ہے اور پرائیویٹ اسکیم کی بکنگ بھی تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ اس سال پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب جانے کے لیے تیار ہے، اور وزارت مذہبی امور نے حج کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے سردار یوسف نے بتایا کہ حج کے 40 دن کے لانگ پیکج کی قیمت 11 لاکھ 40 ہزار روپے ہوگی، جبکہ شارٹ پیکج 12 لاکھ روپے کا ہوگا۔ ان پیکجز کی ادائیگی دو قسطوں میں کی جائے گی، جس میں پہلی قسط 5 لاکھ 40 ہزار روپے اور دوسری قسط 6 لاکھ 50 ہزار روپے ہوگی۔
سردار یوسف نے اس بات کی وضاحت کی کہ حج کے دوران کچھ حجاج کو 12 ہزار سے لے کر 1 لاکھ 10 ہزار تک رقم بینکوں کے ذریعے واپس کی جارہی ہے۔ تاہم، کچھ حجاج جنہوں نے بہتر عمارات اور خصوصی سہولتیں حاصل کی تھیں، انہیں یہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ سعودی حکومت نے ایک نئی پابندی عائد کی ہے جس کے تحت آخری اسٹیج کے مریضوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی حاجی ایسے ہیں جو مکہ اور مدینہ میں ہی اپنے آخری ایام گزارنا چاہتے ہیں، لیکن سعودی حکومت کی یہ نئی پالیسی اس کا راستہ روک دے گی۔
حج 2025 کے لیے پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے اپنے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس سال بھی حجاج کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی اسکیم کے تحت حج کے لیے درخواستوں کی بھرمار ہے، جبکہ پرائیویٹ اسکیم کے تحت بھی بڑی تعداد میں پاکستانی حج کے لیے روانہ ہوں گے۔
