جدہ میں سعودی عرب کے وزیرِ حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ کی زیرِ صدارت ایک نہایت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی ممالک کے وزراء، حج مشنز کے سربراہان اور ممتاز علمائے کرام نے شرکت کی۔ یہ اجلاس حج و عمرہ کانفرنس و نمائش 2025 کے پانچویں ایڈیشن کے موقع پر منعقد ہوا، جس کا مقصد آئندہ حج سیزن 1447 ہجری کے لیے بھرپور تیاریوں کا جائزہ لینا اور انتظامی اقدامات کو بہتر بنانا تھا۔
اس اجلاس میں 80 سے زائد اسلامی ممالک کے 100 سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب کس طرح عالمی سطح پر حجاج کرام کی خدمت میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے اپنے خطاب میں گزشتہ حج سیزن کے دوران تمام ممالک کے حج دفاتر کے تعاون اور بہترین کارکردگی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اُن ممالک کو سراہا جنہوں نے نئے سیزن کے معاہدات پہلے ہی مکمل کرلیے ہیں، اور باقی دفاتر پر زور دیا کہ وہ تمام انتظامی و سروس معاہدات 15 رجب 1447 ہجری (4 جنوری 2026) تک مکمل کریں تاکہ آئندہ سیزن کی بروقت اور منظم تیاری یقینی بنائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیشگی تیاری سے رہائش، نقل و حمل اور صحت کی سہولیات بہتر طریقے سے منظم کی جا سکتی ہیں اور حجاج کو زیادہ محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔
وزیرِ حج و عمرہ نے آئندہ حج کے لیے کئی اہم اقدامات اور رہنما اصولوں کا اعلان کیا۔ ان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش اور خیموں کے معاہدات 13 شعبان (1 فروری 2026) تک مکمل کرنے کی ہدایت شامل تھی۔ اسی طرح حج ویزا کے لیے درخواستیں 1 شوال (20 اپریل 2026) سے پہلے جمع کروانے کی ہدایت کی گئی، اور واضح کیا گیا کہ اس تاریخ کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس لیے ضروری ہے تاکہ غیر مجاز یا غیر قانونی حج کو روکا جا سکے اور تمام عازمین صرف مصدقہ ذرائع سے سفر کریں۔
ڈاکٹر الربیعہ نے عوامی آگاہی مہمات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارتیں اور حج دفاتر مل کر ایسی معلوماتی مہمات چلائیں جو ممکنہ حجاج کو درست معلومات فراہم کریں اور انہیں دھوکے یا غلط فہمیوں سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ حج کے لیے ہر عازم کے پاس ایک "ہیلتھ کیپیبیلٹی سرٹیفکیٹ” ہونا لازمی ہوگا، جس پر حج دفتر کے سربراہ اور میڈیکل ٹیم کے سربراہ کے دستخط ہوں گے۔ یہ سرٹیفکیٹ ویزا کے اجرا کے لیے بنیادی شرط ہوگا اور اسے "مسار” الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے تصدیق کیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قربانی (ہدی و اضحیہ) کی ادائیگی صرف سرکاری منظور شدہ حج دفاتر یا سعودی پروجیکٹ فار دی یٹلائزیشن آف ہدی اینڈ اضحیہ کے ذریعے کی جائے۔ وزیر نے متنبہ کیا کہ کسی غیر مجاز ادارے یا شخص سے لین دین کرنا سختی سے ممنوع ہوگا تاکہ مالی شفافیت برقرار رہے۔
مزید یہ کہ تمام حجاج کے لیے "نسک کارڈ” کا استعمال لازم قرار دیا گیا جو مسجد الحرام اور مقدس مقامات میں داخلے کے لیے بنیادی شناختی ذریعہ ہوگا۔
ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ انتظامی، طبی اور میڈیا عملے کے تمام کوائف 19 جمادی الاول (10 نومبر 2025) سے 1 رجب (21 دسمبر 2025) تک مسار پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔ اسی طرح حج مشنز کو اپنی ایئر لائنز اور فلائٹ شیڈول 15 رجب سے پہلے حتمی شکل دینے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تمام مالی و انتظامی لین دین اب مکمل طور پر نسک اور مسار جیسے جدید ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے کیے جائیں گے تاکہ شفافیت اور سہولت دونوں برقرار رہیں۔
اجلاس میں عالمی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ وزارتِ حج و عمرہ مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ رہائش، ٹرانسپورٹ، صحت اور ہنگامی خدمات کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ سسٹمز کے ذریعے حج انتظامات میں جدت لا رہی ہے تاکہ ہر حاجی کو محفوظ اور بامقصد تجربہ حاصل ہو۔
ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے اس بات پر زور دیا کہ خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں حکومتِ سعودی عرب حجاج کرام کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق وزارتِ حج و عمرہ، ویژن 2030 کے اہداف کے تحت مسلسل اصلاحات اور ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرا رہی ہے تاکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو آسان، منظم اور جدید سہولتوں سے آراستہ حج کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیرِ حج و عمرہ نے تمام وفود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب آئندہ بھی حجاج کرام کی خدمت میں اپنی قیادت، مہارت اور خلوص کے ساتھ پیش پیش رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام نئے ضوابط اور ڈیجیٹل اقدامات کا مقصد صرف ایک ہے — یہ یقینی بنانا کہ ہر حاجی اپنے مقدس سفر کو اطمینان، تحفظ اور سکون کے ساتھ مکمل کر سکے۔
یہ اجلاس اس بات کی تازہ تصدیق تھا کہ سعودی عرب نہ صرف حج انتظامات میں عالمی رہنما ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور شفافیت کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی مذہبی عبادت کو مزید منظم اور بامقصد بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
