پاکستان سے حج 2026 کے لیے پروازوں کا طویل عرصے سے انتظار ختم ہوگیا ہے، کیونکہ وزارت مذہبی امور نے اس سال کے لیے سرکاری حج پروازوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلی سرکاری حج پرواز 18 اپریل کو روانہ ہوگی، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں سے عازمین کو منظم طریقے سے حجاز مقدس پہنچانے کا آپریشن شروع ہوگا۔ اس سال حکومت نے حج کے لیے وسیع اور مکمل منصوبہ بندی کی ہے تاکہ ہر عازم کو محفوظ، آسان اور پر سکون سفر مہیا کیا جا سکے۔
سرکاری حج اسکیم کے تحت اس سال تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار عازمین کو سعودی عرب بھیجا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر 468 پروازیں طے کی گئی ہیں جو آٹھ مختلف شہروں سے روانہ ہوں گی: اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد اور سکھر۔ پہلے دن یعنی 18 اپریل کو کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور ملتان سے پروازیں روانہ ہوں گی تاکہ عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جا سکے۔ یہ پہلا مرحلہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ حج کے ابتدائی مراحل میں ہر عازم کی روانگی مکمل اور منظم ہو۔
وزارت کے مطابق عازمین کو ان کی متعلقہ پروازوں اور شیڈول سے متعلق تمام معلومات آئندہ ہفتے فراہم کر دی جائیں گی تاکہ وہ اپنی تیاری مکمل کر سکیں اور کسی قسم کے الجھن یا تاخیر سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ہر عازم کو پرواز کے وقت، روانگی کے مقام اور دیگر ضروری تفصیلات کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
حج آپریشن مجموعی طور پر 34 دن جاری رہے گا تاکہ ہر شہر اور علاقے کے عازمین کو محفوظ اور منظم طریقے سے سعودی عرب پہنچایا جا سکے۔ پہلے 15 دنوں میں خصوصی طور پر مدینہ منورہ کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔ اس دوران کل 186 پروازیں مدینہ کے لیے روانہ کی جائیں گی، تاکہ ابتدائی مراحل میں عازمین کو آسانی اور سکون کے ساتھ مقدس شہر میں پہنچایا جا سکے۔ مدینہ میں پہنچنے کے بعد عازمین کی رہائش، ابتدائی عبادات اور تیاری مکمل ہونے کے بعد 4 مئی سے جدہ کے لیے پروازیں شروع ہوں گی، جو حج کے اہم مراحل کے لیے عازمین کو لے جائیں گی۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں پروازوں کی تعداد اس سال بھی عازمین کی تعداد اور مقامی ضرورت کے مطابق تقسیم کی گئی ہے۔ اسلام آباد سے 129، کراچی سے 124 اور لاہور سے 104 پروازیں روانہ ہوں گی۔ دیگر چھوٹے شہروں میں بھی پروازیں روانہ کی جائیں گی: کوئٹہ سے 18، ملتان سے 34، سیالکوٹ سے 26، فیصل آباد سے 23 اور سکھر سے 5 پروازیں عازمین کو مقدس مقامات تک پہنچائیں گی۔ یہ وسیع جال ہر شہر سے عازمین کی آسانی اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
وزارت کے ذرائع نے مزید بتایا کہ پروازوں کا مرحلہ وار نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شہر کے عازمین کو مناسب وقت پر مدینہ اور جدہ پہنچایا جائے، اور کسی بھی قسم کے بھیڑ یا انتظامی مشکلات سے بچا جا سکے۔ مدینہ منورہ کے پہلے 15 دن کے دوران پروازوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ عازمین اپنے قیام اور ابتدائی عبادات کے لیے کافی وقت حاصل کریں، اور اس کے بعد جدہ کے لیے پروازیں شروع ہوں گی تاکہ حج کے مرکزی اعمال کی تکمیل کے لیے عازمین تیار ہوں۔
وزارت مذہبی امور نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ حج آپریشن ہر سال کی سب سے بڑی منظم فضائی کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس میں حفاظت، آرام، وقت کی پابندی اور سہولیات کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ عازمین کے لیے سامان برداری، روانگی سے قبل رجسٹریشن اور دیگر ضروری انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ہر پرواز میں ہر عازم کے لیے ایک مکمل اور محفوظ سفر ممکن ہو۔
اس سال کا حج آپریشن نہ صرف شہریوں کی سہولت بلکہ ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سعودی حکومت کے تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ہر پرواز کی روانگی اور تقسیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ حج کے دوران کسی بھی قسم کی تاخیر یا الجھن پیدا نہ ہو۔ وزارت نے کہا ہے کہ ہر پرواز کی روانگی، مقام اور وقت کے حوالے سے عازمین کو بروقت آگاہی دی جائے گی تاکہ آپریشن مکمل طور پر منظم اور شفاف ہو۔
یہ آپریشن اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ہر عازم کو سعودی عرب میں پہنچانے کے لیے ہر شہر سے منظم اور یکساں طرز عمل اپنایا گیا ہے۔ بڑے شہروں جیسے کراچی اور لاہور کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں جیسے سکھر اور کوئٹہ سے بھی پروازیں روانہ ہوں گی، تاکہ ہر علاقے کے عازمین کو مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزارت نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ ہر پرواز میں عازمین کے سامان، سفر کے دوران سہولت اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ حج آپریشن کے دوران ہر مرحلہ، ہر شہر اور ہر پرواز کی تفصیل انتہائی محتاط منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے تاکہ ہر عازم کے لیے ایک پر سکون اور آسان سفر ممکن ہو۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس سال کے حج میں کسی قسم کی مشکلات یا انتظامی مشکلات نہ ہوں، اور ہر شہری اپنے روحانی مشن کو آرام اور سکون کے ساتھ مکمل کر سکے۔
آخر میں، وزارت مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان سے حج پروازوں کا آغاز 18 اپریل سے ہوگا، مدینہ کے لیے ابتدائی 15 دن میں 186 پروازیں روانہ ہوں گی، اور جدہ کے لیے 282 پروازیں 4 مئی سے شروع ہوں گی۔ آخری پرواز 21 مئی کو روانہ ہوگی، جس کے بعد اس سال کا حج آپریشن مکمل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت عازمین کو محفوظ، منظم اور پر سکون طریقے سے مقدس مقامات تک پہنچایا جائے گا، اور پاکستان کے ہر شہر کے عازمین کے لیے مناسب اور آسان انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس طرح وزارت مذہبی امور نے 2026 کے حج کے لیے مکمل اور تفصیلی منصوبہ بندی کر کے پاکستان کے شہریوں کو روحانی سفر کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
